1
1.1k GÖRÜNTÜLEME
AA Paylaş

Dasht e harjayi by sara urooj

Dasht e harjayi by sara urooj

episode no 3



#دشتِ_ہرجائی

#ازقلم_سارہ_عروج

قسط نمبر 3

سماہرا اور حازم کی شادی کو ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔سب کچھ اپنے معمول کے مطابق چل رہا تھا۔۔اس پورے ہفتے میں ان دونوں کے درمیان بات نا ہونے کے برابر تھی۔

حازم روز صبح جلدی آفس چلا جاتا اور رات کو دیر سے گھر آتا تھا۔۔ان کے مابین تعلق کو دیکھ حازم کی ماں بھی بہت پریشان تھیں۔ان نے حازم کو کافی دفع سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اس طرح سماہرا سے لاتعلقی نا برتے ۔ایک اچھے شوہر کی طرح اس کا خیال رکھا کرے۔اپنے اور اس کے رشتے کو پروان چڑھائے۔

لیکن وہ ان سے صاف کہہ چکا تھا کہ ان کے کہنے کے مطابق وہ شادی تو کر چکا ہے۔۔پر ایسا کوئی رشتہ وہ نہیں بنانا چاہتا۔۔حازم کی بات سن کر اس کی ماں بہت دلبر داشتہ ہوئیں تھیں۔۔


مما سوپ پی لیں۔۔پھر آپ نے میڈیسن بھی لینی ہے۔۔

سماہرا شمائلہ بیگم کے کمرے کا دروازا ناک کر کے داخل ہوئی جہاں وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹی ہوئیں تھیں۔۔


دو دن سے شمائلہ بیگم کی طبعیت کافی ناساز تھی۔ان کی دیکھ بھال کی تمام تر ذمداری اس نے اپنے زمے لی تھی۔


سمی تم کیا گھر میں ایسے اتنے سادہ حلیے میں گھوم رہی ہو۔۔؟

بیٹا تھوڑا تیار ہو کر رہا کرو۔۔

نا ہاتھوں میں چوڑیاں ہیں۔۔نا ہونٹوں پر لپ اسٹک۔۔

کہیں سے بھی سہاگن نہیں لگ رہی ۔۔۔

شمائلہ بیگم سوپ پیتے اس کا جائزہ لیتے ہوئے بولیں۔۔جو کہ سادہ کوٹن سوٹ میں ملبوس سر پہ نفاست سے ڈوپٹہ اوڑھے ان کے سامنے بیٹھی انہیں اپنے ہاتھوں سے سوپ پلا رہی تھی۔۔۔


شمائلہ بیگم کی بات سن کر ایک پل کے لئیے اسکا ہاتھ تھما اور دو دن پہلے کا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔۔


چھن۔۔چھن۔۔چھن۔۔

شام کا وقت تھا سماہرا چھن چھن کرتی چوڑیوں کے ساتھ کمرا سمیٹنے میں مصروف تھی۔


جبکہ بالکونی میں بیٹھا حازم اس شور سے چڑ رہا تھا ۔۔

ایک تو اس کو یہ لڑکی بے انتہاہ کی بری لگتی تھی ، اوپر سے اس کے شوق چوڑیاں پہننا، بالوں میں پراندہ ڈالنا اس کو سخت کوفت میں مبتلا کرتے تھے۔


اتارو انہیں فوراً۔۔

وہ اس شور سے تنگ آتا کمرے میں آیا اور اس کے سر پر کھڑا اسے حکم دیتے ہوئے بولا۔۔


جبکہ وہ اس کی بات کو نظر انداز کرتی اس کی سائڈ سے نکلنے لگی کیونکہ وہ جس کام کو کرنے کا کہہ رہا تھا وہ اس کے بس سے باہر تھا۔۔


اپنی بات کو یوں ہوا میں اڑائے جانے پر اس کا دماغ پل میں گھما تھا اس نے باہر جاتی سماہرا کی چٹیا پکڑ کے اپنی جانب کھینچا۔۔وہ اس کاروائی کے لئیے تیار نا تھی اس لئیے سیدھا اس کے سینے سے آہ لگی۔۔


سمجھ نہیں آتی۔۔بہری ہو؟؟

کیا بکواس کی ہے میں نے؟؟

اس شور شرابے کو اتارو ۔۔۔نفرت ہے مجھے ایسی چیزوں سے۔۔سر میں درد کر کے رکھ دیا ہے۔۔

جب دیکھو چھن چھن۔۔۔۔چھن چھن۔۔۔


چوڑیوں کو توڑنے کے ارادے سے اس نے سماہرا کی کلائی کو اپنے ہاتھوں کی سخت گرفت میں لیتے ہوئے دھاڑنے کے انداذ میں کہا۔۔

جبکہ اس کے ارادے جان وہ رونے لگی تھی۔۔


ن۔۔نہیں حازم پلیز ۔۔۔۔ان۔۔انہیں توڑیے گا مت۔۔۔

می۔۔میں اتار دیتی ہوں۔۔۔

وہ آنسوں بھری آنکھوں سے اس سے التجا کرتی ہوئی بولی۔۔


حازم کی کلائی پر سخت گرفت کے باعث کچھ چوڑیاں زمین پر گری تھیں۔۔کچھ اس کی کلائی میں پیوست ہوئیں تھیں ۔۔دودھیا رنگت کی کلائی سے خون ٹپ ٹپ کرتا نیچے ٹائلوں کے فرش پر گر رہا تھا۔۔


کانچ کی چبھن اپنے ہاتھ پر محسوس کیے اس کے آنسوں میں روانی آئی تھی ۔رونا ہاتھ پر چوٹ لگنے سے ذیادہ چوڑیوں کے ٹوٹنے کا تھا۔۔

وہ نیچے فرش پر بکھری چوڑیوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

اس کو چوڑیاں نہیں اپنا آپ ٹوٹتا محسوس ہوا۔۔


اس کو بچپن سے ہی عشق تھا چوڑیوں سے۔۔وہ ایک پل کے لئیے چوڑیوں کو اپنی کلائی سے جدا نہیں ہونے دیتی تھی۔۔

اس کی سہلیاں اس کو "چوڑیوں کی شیدائی" بولتی تھیں۔۔۔


سمی بیٹا پانی پکڑانا۔۔۔!!!

وہ شمائلہ بیگم کی آواز سن کر ہوش میں آئی۔۔جو کھانستے ہوئے اس سے پانی پکڑانے کا بول رہی تھیں۔۔

جی۔۔مما۔۔


بیٹا۔۔میں نے بہت چاہت سے اپنے حازم کے نکاح میں لیا تھا تمہیں۔۔وہ پیار اس کے چہرے پر پیار کرتی بولیں تھیں۔۔اگر وہ تم سے دوری برت رہا ہے تو تم اس کے پاس جاو ۔۔اس کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال رکھو۔۔

اس سے باتیں کیا کرو۔۔

محرم کے رشتے میں ایک کشش ہوتی ہے بیٹا۔۔


مما آپ نہیں جانتی وہ بے انتہاہ نا پسند کرتے ہیں مجھے۔۔بعض اوقات میاں بیوی اپنے اس خوبصورت رشتے کو خود ہی خراب کر لیتے ہیں۔۔وہ کبھی میرے نہیں ہو سکتے۔۔۔ان کو میری جیسی عام لڑکی نہیں چاہیے۔۔

وہ دل میں سوچتے ہوئے بولی۔۔اور ایک آنسوں بے مول ہو کر اس ہاتھ پر گرا تھا جسکا اسے خود اندازا نہیں تھا۔۔


دیکھنا انشاللہ تم دونوں کا رشتہ ضرور کامیاب ہو۔۔ایسے روتے نہیں۔۔مایوس نہیں ہو۔۔آمین

وہ ان کے سر پر پیار دیتے ہوئے بولیں۔۔

______________________

حازم آفس سے آنے کے بعد سیدھا شمائلہ بیگم کے کمرے میں ان سے ملنے گیا لیکن ان نے حازم سے کوئی بات نا کی اور یہ کہہ کر کمرے سے نکل جانے کا کہا۔۔


جب تک وہ اپنے اور سماہرا کے رشتے کو صحیح نہیں کر لے گا۔۔اس کو اپنی بیوی ہونے کا حق نہیں دے گا۔۔تب تک اپنا چہرا نا دکھائے۔۔یہ سن کر اس نے بہت واویلا مچایا کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور آپ ایک پرائی لڑکی کے لئیے اپنے بیٹے سے ایسا سلوک کریں گی۔۔


شمائلہ بیگم نے حازم کے جواب میں غصے سے کہا کہ وہ بھی ان کی بیٹی ہے ۔ خبردار جو اس کو پرائی کہا۔۔

اپنی ماں کے آگے کے الفاظ سن کر وہ غصے میں گھر سے ہی چلا گیا تھا۔۔


رات کے ڈیڑھ بجےوہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا ہاتھ میں موجود کوٹ کو اٹھا کر صوفے پر مارا۔، گرنے کے انداذ میں بیڈ پر بیٹھا۔۔


سماہرا کیچن کے کام سے فارغ ہو کر کمرے میں آئی تو حازم کو ہاتھوں میں سر گرائے بیڈ پر بیٹھے پایا۔۔

یہ کب آئے؟وہ خود سے ہمکلام ہوتے ہوئے بولی۔۔


حازم!!

اپنے نام کی پکار پر اس نے خون آشام آنکھیں اٹھا کر سامنے کھڑی سماہرا کی جانب اٹھائیں۔۔جسے دیکھ کر ایک لمحے کے لئیے وہ لرز سی گئی۔۔

وہ۔۔ی۔یہ پو۔۔پوچھنا تھا۔۔کھان۔۔کھانا لاوں آپ کے لئیے۔۔

وہ اپنے خوف پر قابو پاتی بولی۔۔۔

زہر لا دو۔۔!!

وہ پھاڑ کھانے والے انداز میں بولا۔۔

اس کی دھاڑ پر خوف سے اس نے اپنی دونوں آنکھیں بھینچی تھیں۔۔


تم وہ ہو جس کی وجہ سے میری ماں مجھ سے بات کرنا گوارا نہیں کرتیں۔۔میری ماں کو مجھ سے دور کرنا چاہتی ہو نا تم۔۔۔

کیا پول پٹیاں پڑھاتی رہی ہو موم کو تم۔۔۔

کہ میں پر جابر ہوں۔بہت ستم ڈھاتا ہوں تم پر۔۔تمہیں تمہارے حقوق نہیں دیتا۔۔

اس کی گردن میں ہاتھ ڈالے اپنا چہرا اس کے چہرے کے قریب تر کرتے ہوئے بولا۔۔


ن۔۔نہیں می۔۔میں نے ک۔کوئی ش۔شکایت نہیں ۔۔کی۔۔

جھوٹ۔۔۔۔!!اس نے چیختے ہوئے اس کی گردن پر گرفت اور مضبوط کی۔۔


لیکن آج کے بعد تم کوئی شکایت کرنے کے قابل نہیں رہو گئی۔۔کیونکہ تمہاری تمام شکایت میں دور کر دوں گا۔۔

کہتے ہی اس نے سماہرا کو بیڈ کی جانب دھکا دیا۔۔

وہ اوندھے منہ جا کر بیڈ پر گری تھی۔۔سیدھی ہو کر

وہ جلدی سے دوسری جانب سے اترنے لگی کہ اس کو اپنا آپ حازم کی سخت گرفت میں محسوس ہوا۔۔

ن۔نہی۔۔نہیں۔۔۔۔ح۔۔حازم۔۔۔۔پ۔۔پلیز ن۔۔نہیں۔۔۔۔

مجھے۔۔۔یوں۔۔بدلے کی بھینٹ مت چڑھائیں۔۔۔

وہ روتے ہوئے التجائیں کرتے ہوئے بولی۔۔جبکہ وہ اس کا ڈوپٹہ اس کے وجود سے جدا کر چکا تھا۔۔۔۔

حا۔۔حازم۔۔۔مجھے یوں رسوا نا کریں۔پلیز۔۔۔۔۔ حا۔۔ز۔۔

جب کے وہ اسی کی تمام مزاحمت کو نظر انداز کیے اس کو خاموش کروا چکا تھا۔۔۔اپنا تمام غصہ، وحشت،بدلہ سب اس معصوم کی نظر کر رہا تھا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔



13 Ocak 2022 08:25:15 0 Rapor Yerleştirmek 0
~