AA Partager

KHOWAB RAIZA RAIZA BY SARA UROOJ

کیا میری محبت ، میری چاہت ، میری کئیر آپ کے لئے کافی نہ تھی ؟ جو آپ ک۔۔کسی اور عورت کے ساتھ۔۔؟؟

وہ لڑکی سامنے موجود اپنے شوہر کے کالر کو تھامے چیختے ہوئے بولی تھی۔

لی۔۔لیلما!!

مت پکاریں مجھے اپنے اس دوغلے وجود سے۔۔

کیا آپ کی وہ محبت ، وہ وعدے ، وہ قسمیں سب جھوٹی تھیں؟

وہ ہاشم یزدانی کی آنکھوں میں دیکھتے بولی تھی جو کہ ان کی بات سن ، نظریں چرا گئے تھے۔


ک۔۔کیوں کیا ایسے؟ کیوں شریک کیا اس وجود میں کسی اور کو؟ کیا مجھ میں کوئی کمی ہے؟

وہ بہتی آنکھوں کے ساتھ استفسار کر رہی تھیں، ان کے دل کی دنیا بنجر ہوئی تھی جب پہلی بار اس عورت کو اپنے شوہر کے ساتھ ریسٹورنٹ میں دیکھا اور آج وہ لیلما کے خوبصورت آشیانے میں موجود تھی۔۔۔


لیلما!! آپ نے سب کچھ دیا ہے ،"مگر اولاد کی خوشی نہ دے سکیں، میں مرد ہوں میری بھی کچھ خواہشات ہیں کہ میری اولاد ہو جو میرے ساتھ رہے، مجھے پکارے، میرے ساتھ کھیلے،،لیکن اتنے سالوں میں آپ نے ایک بار بھی یہ خوشخبری نہ دی ہمیں۔


ان کی بات سن سامنے کھڑی ان کی بیوی حیرت سے اپنے شوہر کی جانب دیکھ رہی تھیں ، جہنوں نے شادی کے ان پانچ سالوں میں پہلی بار یہ طعنہ دیا تھا جو کہ سیدھا ان کے دل پر تیر کی مانند لگا۔

آ۔۔آپ صرف اولاد کے لئے کسی غ۔۔غیر عورت کے پاس ج۔۔جائیں گے؟؟۔۔۔

وہ صدمے کے مارے جملا بھی مکمل نہیں کر پا رہی تھیں۔


وہ عورت کوئی غیر نہیں بلکہ بیوی ہے میری۔۔

ہاشم یزدانی کے جملے نے انہیں اپنی جگہ ساکت کر دیا تھا۔

و۔۔وہ مڈل کلاس بلڈی وم۔۔۔

جملا ادھورا رہ گیا تھا ،"کیونکہ ہاشم کے ہاتھ سے پڑھنے والے تھپڑ نے لیلما کو کچھ کہنے کے قابل نہ چھوڑا تھا۔

وہ گال پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے ہاشم کو دیکھ رہی تھیں۔

آ۔۔آپ نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ص۔۔صرف اس دوسری عورت کے لئے۔

زبان سنبھال کر بات کریں لیلما۔۔ وہ کوئی دوسری عورت نہیں بلکہ میری بیوی ہی ہے ، جیسے آپ!

Don't compare me with her.....

وہ روتے ہوئے بولی تھیں، نیلی آنکھیں لال سرخ ہورہی تھیں رونے کے باعث ، جسے وہ ستمگر انجانے میں اگنور کر رہا تھا۔

جس کی ہلکی سے تکلیف پر وہ تڑپ جایا کرتا تھا آج اسے زندگی کی گہری اذیت دینے کے باوجود وہ شخص کتنا پر سکوں لگ رہا تھا۔


آپ میری محبت و نرمی کا نا جائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

جیسے آپ کے کچھ حقوق ہیں ، اسی طرح کومل کے بھی ہیں۔

اور میں کسی قسم کی نا انصافی برداشت نہیں کروں گا۔

کہتے وہ روم سے باہر نکلنے لگے تھے کہ لیلما کی بات نے ان کے قدم وہیں منجمد کر دیے۔


نا انصافی تو آپ کر چکے ہیں۔۔۔

میرے ہاشم کو کسی اور کے ساتھ بانٹ کر۔۔

ایک درد تھا ان کی آواز میں جسے وہ محسوس کر چکے تھے۔


اگر آپ اس عورت کے پاس گئے تو میں کبھی آپ کو معاف نہیں کروں گی۔۔

اس نے روتے ہوئے ان کا ہاتھ پکڑا تھا۔

لیلما میں آپکی کسی فضول بات کو نہیں سننے والا،

آرام سے ان ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نکالا تھا۔۔

جسے تھامے رکھنے کی کتنی ہی قسمیں کھائیں تھیں۔

وہ رکے نہیں تھے بلکہ جا چکے تھے اپنی دوسری بیوی کے پاس پیچھے اپنی روتی بلکتی بیوی کو چھوڑ۔۔۔۔

وہ زمین پر بیٹھی گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی۔

اسکا دل سوچ سوچ پھٹ رہا تھا ہاشم کی شادی کا سن۔۔

وہ تو دیوانوں کی حد تک اس سے محبت کرتا تھا مگر پھر بھی وہ اسے درد دے بیٹھ گیا۔


میں پگھلا دیا پتھروں کو

اک تیرا دل پگھلتا نہیں ہے۔۔۔۔


#خواب_ریزہ_ریزہ

#از_سارہ_عروج



To.rad this novel follow and like page and subscribe you tube channel


page link 👇

https://www.facebook.com/kratikahira/


You tube channel 🔗👇

https://youtu.be/k0Th40_XGbw



18 Mars 2022 09:48:28 0 Rapport Incorporer 0
~